سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کی اجازت سے اپنی بیوہ بھابھی سے نکاح کیا، مگر اب میری پہلی بیوی برداشت نہیں کر رہی ہے، اور مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے ، جبکہ میں طلاق دینا نہیں چاہتا؟
سائل اگر دونوں بیویوں کے حقوق، نان و نفقہ وغیرہ ادا کرتا ہو، دونوں کے ساتھ رات گزارنے میں بھی برابری کرتا ہو، مگر پہلی بیوی فقط سوکن کو برداشت نہ کر رہی ہو، تو ایسی صورت میں سائل پر طلاق دینا لازم نہیں اور نہ ہی بیوی کا مطالبہ طلاق درست ہے بلکہ اسے چاہیئے کہ اپنے اس غلط مطالبہ سے باز آکر اپنے گھر بسانے کی فکر کرے۔
وفي المرقاۃ شرح مشكوة المصابيح: (قال) أي: النبي (ثم يجيء أحدهم فيقول ما تركته) أي: فلانا (حتى فرقت بينه وبين امرأته) : هذا، وإن كان بحسب الظاهر أمرا مباحا، وظاهره خير، ولذا قال تعالى: {وإن يتفرقا يغن الله كلا من سعته} [النساء: 130] ، ولكنه من حيث إنه قد يجر إلى المفاسد يصير مذموما، ويحث عليه الشياطين، ويفرح به كبيرهم، ولذا قال - عليه الصلاة والسلام -: " «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ) .اھ (142/1)