کیا فرماتے میں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک خاوندنے اپنی بیوی کو 9مارچ 2021 کو اسٹامپ پپیر پر ایک طلاق تحریری طورپر دی پھر رجوع نہیں کیا اور 5 مئي 2021 کو دوسری طلاق بھی تحریری طور پر اسٹامپ پیپر پر دی پھر 9 جولائی کو تیسری طلاق تحریری طور پر اسٹامپ پیپر پر دی , عورت کا بیان یہ ہے کہ 9 مارچ کو واقع ہونے والی پہلی طلاق کے بعد تین حیض مؤرخہ 24 جون کو مکمل ہو چکے تھے اس صورت میں سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو تین حیض مکمل ہونے کے بعد جولائی کے مہینےمیں جو طلاق دی گئی وہ واقع ہو گی یا نہیں ؟ نیز یہ کہ کیا ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہونا ممکن ہے یا نہیں؟
شخص ِ مذکور نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق کی عدت میں جو دوسری طلاق (5 مئی) کو دی ہے ، وہ عدت میں ہونے کی وجہ سے واقع ہوچکی ہے ، چنانچہ مجموعی اعتبار سے شخصِ مذکور کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جبکہ (9جولائی) کو جو طلاق دی ہے وہ چونکہ عدت کے ختم ہونے کے بعد دی ہے ، اسلئے وہ واقع نہیں ہوئی، تاہم اگر دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا چاہیں، تو دوبارہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، لیکن اسکے بعد شخصِ مذکور کوفقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہیگا، جب کبھی وہ بھی ایک طلاق بھی دے دیگا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی۔
کمافی الھدایة: " وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك اھ(254/2)
کمافی بدائع الصنائع:(فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك اھ(126/3)-