میرے شوہر نے 6 مارچ 2020 میں مجھے طلاق کا ایک نوٹس بھیجا، اس دوران ہماری کال پر بات ہوتی رہی مگر کوئی ملاقات نہیں ہوئی کیا میں اب بھی ان کے نکاح میں ہوں ؟ (نوٹ) سائلہ نے فون پر بتایا کہ مجھے میرے شوہر نے ایک طلاق کا نوٹس بھیجا ہے اور اسکے بعد شوہر نے زبانی وغیرہ کوئی رجوع نہیں کیا، بلکہ فون پر یہ کہتے رہے کہ اور نوٹس بھی بھیجونگا لیکن اس کے بعد کوئی نوٹس نہیں آیا۔
سائلہ کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور منسلکہ طلاق نامہ بھی مطابق اصل ہو تو اس طلاق نامہ کے مطابق سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جسکے بعد سائلہ کے شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا لیکن اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے یہ طلاق بائنہ بن چکی ہے اور دونوں کا نکاح بھی ختم ہو چکا ہے، لہذا اب سائلہ کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی، تاہم اگر دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں تو اسکے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ عقد نکاح لازم ہو گا البتہ اس نکاح ثانی کے بعد آئندہ سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو / ۲ طلاقوں کا اختیار ہو گا جب کبھی وہ دو / ۲ طلاقیں بھی دیدے گا تو سائلہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
وفي الشامية: وينكح مبائنة بمادون الثلاث في العدة وبعدها اھ ( ج ۳ ص ۲۸۱)
كما في الفقه الإسلامي وأدلته : أما الطلاق الرجعي: فهو الذي يملك الزوج بعدإعادة المطلقة إلى الزوجية من غير حاجة إلى عقد جديد ما دامت في العدة، ولو لم ترض، وذلك بعد الطلاق الأول والثاني غير البائن إذا تمت المراجعة قبل انقضاء العدة، فإذا انتهت العدة انقلب الطلاق الرجعي بائناً، فلا يملك الزوج إرجاع زوجته المطلقة إلا بعقد جديد اھ(ج ۷ ص ٤٣٢) .