اگرشوہر نان نفقہ نہ دے , نہ ہی حق مہر ادا کرے، بلکہ اس کی ضرورت بھی بیوی پوری کرے , گھر بھی عورت خود چلائے، بچوں کےخرچے بھی عورت پورے کرے تو کیاوہ ایسے مرد سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟ وہ لوگوں کی وجہ سے طلاق نہیں لیتی، اپنے بچوں کی وجہ سے خاموش رہتی ہے ، مگر اس کا دل اس مرد کی طرف نہیں رہتا، اس لئے وہ حق زوجیت ادا نہیں کرتی تو کیا وہ گنہگار ہوگی؟ جب کہ شوہر اس کی تمام تر محنت کے باوجود اس کا احسان بھی نہیں مانتا بلکہ اس کو کسی نہ کسی طرح ٹینشن دیتارہتا ہے۔
واضح ہو کہ اسلام نے بیوی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر عائد کی ہے ، اس لئےصورتِ مذکورہ میں سائلہ کے شوہرکو چاہئیےکہ وہ بیوی کا حق مہر اور بچوں کا نان نفقہ ادا کرے ، بصورتِ دیگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف نان نفقہ ادانہ کرنے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس سے علیحدگی اختیار کرنے میں جلد بازی اختیار کرنے کے بجائےخاندان کے معزز اور باثر افراد کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے، تاہم اگر کوشش کے باوجود بھی وہ اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو تو اس سے طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں، جبکہ حق مہر اگر معجل یا عند الطلب ہو تو اب بیوی کی طرف سے مطالبے کے باوجود حق مہر کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے اگر بیوی شوہر کےحقوقِ زوجیت ادانہ کرے تو اس کی وجہ سے وہ گنہگار بھی نہ ہو گی۔
کمافی ردالمحتار: (قوله ولها منعه إلخ) وكذا لولي الصغيرة المنع المذكور حتى يقبض مهرها وتسليمها نفسها غير صحيح فله استردادها، وليس لغير الأب والجد تسليمها قبل قبض المهر ممن له ولاية قبضه، فإن سلمها فهو فاسد، وأشار إلى أنه لا يحل له وطؤها على كره منها إن كان امتناعها لطلب المهر عنده. وعندهما يحل كما في المحيط. بحر. وينبغي تقييد الخلاف بما إذا كان وطئها أو لا برضاها، أما إذا لم يطأها ولم يخل بها كذلك فلا يحل اتفاقا نهر (قوله ودواعيه إلخ) لم يصرح به في شرح المجمع، وإنما قال لها أن تمنعه من الاستمتاع بها، فقال في النهر إنه يعم الدواعي ط.(3/143)
وفی الھندیة: (الفصل الأول في نفقة الزوجة) تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة تكلموا في تفسير البلوغ مبلغ الجماع والمختار أنها ما لم تبلغ تسعا لم تبلغ مبلغ الجماع وعليه الفتوى هكذا في التتارخانية والصحيح: أنه لا عبرة للسن، وإنما العبرة للاحتمال والقدرة كذلك في الكافي.(الی قولہ) وإن كانت سلمت نفسها ثم امتنعت لاستيفاء المهر لم تكن ناشزة، قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في فتاوى قاضي خان.(1/553)
وفیھا ایضاً: في كل موضع دخل بها أو صحت الخلوة وتأكد كل المهر لو أرادت أن تمنع نفسها لاستيفاء المعجل لها ذلك عنده خلافا لهما(الی قولہ) وإذا كان المهر مؤجلا أجلا معلوما فحل الأجل ليس لها أن تمنع نفسها لتستوفي المهر على أصل أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، كذا في البدائع(1/318)