کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ ایک عورت اپنی شوہر سے لڑائی کے دوران تو تو کر کے بات کرنے لگ گئی بعد میں شوہر نے اپنی بیوی کو کہا لڑائی کے دوران تم نے مجھ سے تو تو کر کے بات کر رہی تھی ’’ اگر میں اس وقت تجھ کوطلاق کہہ دیتا‘‘ جب یہ بات عورت نے سنی پریشان ہوکرشوہر سے پوچھا تم نے ایسا کہہ دیا تھا پو چھتی رہی شوہر غصہ میں آکر کہا ہاں! حالانکہ شوہر نے ایسا کہا ہی نہیں تھا لڑائی کے دوران
1:کیا طلاق ہو جائے گی ایسے ہاں کہنے سے ؟
2:اگر طلاق واقع ہو گی تو کتنی طلاق ہو گی ؟
3:یہاں کچھ لوگوں کہتے ہیں طلاق ہو گئی، کیا یہ صحیح ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شوہر نے چونکہ کوئی طلاق نہیں دی، بلکہ بیوی کو سمجھانے اور متنبہ کرنے کی غرض سے یہ جملہ کہا " اگر میں اس وقت طلاق کا کہہ دیتا" اور پھر اسکے بعد بیوی کے بار بار استفسار پر " کہ تم نے ایسا کہہ دیا تھا شوہر نے اگر جوابا " ہاں" کہہ دیا، لیکن چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے ، اور بیوی کے سوال میں طلاق دینے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ مذکور جملہ " اگر میں اس وقت طلاق کا کہہ دیتا " کے متعلق ہی استفسار کیا گیا ہے، جبکہ مذکور جملے سے ابتداء طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لئے اسکے متعلق جوابا " ہاں" کہہ دینے سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
کمافی البحرالرائق: ولذا قال في البدائع: ركن الطلاق اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية، والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكنايات أو شرعا وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ اهـ.(3/252)