جو علماء اسلامی بینکاری کی اجازت نہیں دیتے ان کے مطابق دو و جوہات ہیں:(1) بیک وقت دو عقد منع ہیں، ایک بیع اور دوسرا اجارہ (2) التزامِ صدقہ کی شرط کی وجہ سے اسلامک بینک سے گھر یا گاڑی نہیں لے سکتے؟ ازراہِ شریعت وضاحت فرمائیں، والسلام۔
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ اس حوالے سے کیا معلوم کرنا چاہتا ہے، تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم ایک معاملہ میں بیک وقت دو عقد جمع کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں، اس لئے جہاں کہیں بھی ایک معاملہ میں عملاً دو عقد ایک ساتھ جمع کیے جائیں، تو یہ صورت شرعاً جائز نہ ہوگی، البتہ ہماری معلومات کے مطابق غیر سودی بینک مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی اپنے معاملات سرانجام دیتے ہیں، ان میں غیر شرعی عقود سے اجتناب کیا جاتا ہے، اس لئے ان کے ساتھ لین دین کرنے کی شرعاً گنجائش ہے، تاہم اگر سائل کو کسی خاص صورت کے متعلق کوئی اشکال ہو تو اس کی وضاحت کر کے حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔