میں نے کورٹ میرج کی ہے ، اب مجھے گھر والے بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کر ہے ہیں ، ایسے میں کیا کرنا چاہیئے ؟
سائل نےاس جیسے معاملے میں اپنے والدین اور اولیاء کو شریک نہ کر کے بڑی جسارت کی ہے، جوان لڑکے اور لڑکی کا خود سے نکاح کرنا بڑی بے شرمی کی بات ہے ، شریف خاندانوں میں اس کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے ، تاہم سائل مذکور لڑکی کا ہم پلہ اور کفؤ ہو ، اور نکاح بھی باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں مہر کے تقرر اور ایجاب و قبول کے ساتھ ہوا ہو ، تو یہ نکاح درست ہوا ہے ، دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ، اگر کوئی دوسری وجہ نہ ہو تو محض کورٹ میرج کی وجہ سے گھر والوں کا طلاق پر اصرار کرنا بھی درست نہیں , لیکن سائل کو چاہیئے کہ اپنے والدین کو بھی راضی کر کے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے۔
کمافی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من ( الى ان قال) (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (٩/٣)