1-وظائف کی تاثیر کا انکار کرنا کیسا ہے؟ کیا وظائف پڑھنے میں فائدہ نہیں ہوتا ؟
2-اگر کوئی یہ کہے کہ شیطان دیندار شخص کو دعاؤں کے بجائے وظائف پڑھنے پر لگا دیتا ہے، اس طرح ہمارے اولیائے کرام ، انبیائے کرام بھی وظائف پڑھا کرتے تھے ؟ کیا ایسا کہنا یا سوچنا صحیح ہے؟
وظائف پڑھنے کو بے فائدہ کہہ کر مطلقاً اس کا انکار کر دینا یا اسے شیطانی عمل قرار دینا درست نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں مختلف مواقع پر وظائف پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، چنانچہ قرآن مجید کی آخری سورتوں کے ذریعے اپنے آپ کو دم کرنا یا حضرت فاطمہ - رضی اللہ عنھا - کو نماز کے بعد مخصوص مقدار میں تسبیحات کی ترغیب دینا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے، البتہ ان وظائف کو ضروری اور لازم سمجھ کر کرنا درست نہیں۔
کما في سنن الترمذي: حدثنا هشام بن يونس الكوفي حدثنا القاسم بن مالك المزني عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان، فلما نزلتا أخذ بهما وترك ما سواهما، قال أبو عيسى وفي الباب عن أنس وهذا حديث حسن غريب اھ (4 /210)
وفى بذل المجهود: عن عوف بن مالك قال: كنا نرقى فى الجاهلية: فقلنا يا رسول الله كيف ترى فى ذالك؟ فقال: اعرضوا على رقاكم، لابأس بالرقى مالم تكن شركاً اهـ . قال هذا وجه التوفيق بين النهى عن الرقية والاذن فیها ۔ اھ (216/16)