میرے شوہر نے آج سے پانچ سال پہلے مجھےمیسج پر طلاق لکھ کر اپنے پاس اس میسج کو لکھ کر رکھ لیا، اور کچھ دن بعد وہ میسج میں نے پڑھ لیا ،اب میرے شوہر کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی ہے ، جبکہ کئی لوگ کہتے ہیں کہ طلاق ہو گئی ہے اس بارے میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں۔
نوٹ: سائلہ نے بتایا کہ انکے شوہر نے میسج میں لکھا تھا، میں رضوان مزمل خان سنبل رضوان کو طلاق دیتا ہوں، اور یہ جملہ تین بار لکھا تھا
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے خود میسج میں تین طلاقیں لکھ دی ہوں اگر چہ سائلہ کو وہ میسج نہ بھیجا ہو تو بھی اس وقت سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دو بارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے، تاہم جتنا عرصہ طلاق کے بعد سائلہ اور اس کا شوہر میاں بیوی کی طرح رہے ہیں حرام کے مرتکب ہوئے ہیں دونوں پر لازم ہے کہ اس گناہ پر بصدقِ دل تو بہ و استغفار کریں اور آئندہ اس طرح کے گناہ سے مکمل اجتناب بھی کریں۔
ففي القرآن المجيد: (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طلقها قلا جناح عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيما حُدُودَ اللهِ وَتِلكَ حُدُودُ اللهِ يُبَيِّنَهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ)[البقرة: ٢٣٠]۔
وفي الهندية: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابةاھ (٣٤٨/١)۔
وفي الشامية : و لكن لا بد في وقوعه قضاء و ديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر اھ (٢٥٠/٣)۔
وفي الفتاوى الهندية :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (٤٧٣/١)-