معزز مفتیان کرام امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے، میرے چند سوالات ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ایک نومولود بچے کے کان میں اذان و اقامت دینے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟کیا اس کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟ یوٹیوب پر کچھ حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہلسنت کو تو آج تک یہ پتہ نہیں لگا کہ بچے کے کان میں جو اذان دینی ہے وہ فجر والی ہے یا کہ باقی نمازوں والی چار، کیا یہ صرف بڑی عمر اور با شرع شخص ہی دے سکتا ہے یا کوئی بھی دے سکتا ہے؟ برائے مہربانی میری قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل طور پر بحوالہ جات رہنمائی فرمائیں۔
نومولود بچے یا بچی کے کان میں اذان دینے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے ہاتھوں میں لیکر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے، اور اس کےلیے باوضو ہونا شرط نہیں بلکہ بغیر وضو کے بھی بچےکے کان میں اذان دی جاسکتی ہے۔
جبکہ " الصلوۃ خیر من النوم " کے کلمات چونکہ صرف فجر کی اذان کے ساتھ خاص ہیں، اس لیے بچے کے کان میں الصلوۃ خیر من النوم کے کلمات کے بغیر اذان دینی چاہیے، نیز اذان دینے کے لیے بڑے عمر کے اور باشرع افراد کا ہونا ضروری بھی نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ کوئی سمجھدار اور نیک باشرع شخص باوضو حالت میں اذان واقامت کہے۔
کما فی شرح المصابيح لابن الملك: وعن أبي رافع عنه قال: رأيتُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم أَذَّنَ في أُذُنِ الحسن ابن علي حين ولدته فاطمة بالصَّلاةِ. صحيح " عن أبي رافع - رضي الله تعالى عنه - قال: رأيت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أذن في أُذُنِ الحسن بن علي - رضي الله عنه - حين ولدته فاطمة بالصلاة": متعلق بـ (أذن)؛ أي: أذن بمثل أذان الصلاة، وهذا يدل على سنية أذان المولود وكان عمر بن عبد العزيز يؤذن في الأذن اليمنى، ويقيم في أذنه اليسرى حين ولد الصبي. "صحيح".(533/4)
وفي الفتاوى الخانيه على هامش الهندية: خمسة يكره اذانهم اذا اذنوا يعاد الصبي الذي لا يعقل والمراة والجنون ---- وثلاثة لا يعاد اذانهم المحدث في ظاهر الرواية والقاعد اذا اذن يكره ولا يعاد - اهـ (77/1)
وفي شرح المصابيح لابن الملك: أذن بمثل أذان الصلاة وهذا يدل على سنية أذان المولود، وكان عمر بن عبد العزيز يؤذن في الأذن اليمنى، ويقيم في أذنه اليسرى حين ولد الصبي)533/4۔