محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم!
امید ہے آپ کے مزاج بخیر ہوں گے ، مجھے ازدواجی امور سے متعلق راہ نمائی مطلوب ہے میری 15 مارچ 2021 کوشادی ہوئی تھی، بیوی نے یہ شادی پورے دل سے اپنائی تھی اور خوشی کا اظہار بھی کیا تھا، ہمارا نکاح 12 دسمبر 2020 کو ہوا، جبکہ رخصتی 15 مارچ 2021 کو ہوئی، میں نے یہ محسوس کیا کہ میری ازدواجی زندگی میں میرے سسرال والوں کی طرف سے مداخلت پیش آنے لگی، کچھ وقت گزرنے کے بعد میرے گھر والوں کا میری بیوی کے ساتھ مسئلہ زیادہ خراب ہونے لگا، جو اس حد تک پہنچ گیا کہ میں گھر والوں سے الگ ہو گیا، اور پچھلے مہینہ سے بیوی کو الگ رہائش اور سہولتیں دینے لگا، پچھلے کچھ مہینوں سے بیوی نے خلع کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا اور ہر لڑائی جھگڑے کے بعد اس شادی کو ختم کرنے کی بات شروع کر دی، اس نے مجھ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ میں بطورِ حفاظت پراپرٹی بھی اس کے نام کر دوں، جبکہ میرے والد نے کہا کہ میں (سائل) یہ کاغذات کے ساتھ بطور حفاظت خود ہی رکھوں، کیوں کہ میں دوسری منزل پر رہتا ہوں اور والد صاحب پہلی منزل پر رہتے ہیں، بیوی نے اس بات کو اپنے اوپر الزام سمجھ لیا، اور بھر وسہ و اعتماد توڑ دیا، اس کے بعد اس کی چاہت اور بڑھنے لگی اور حد یہاں تک پہنچی کہ میں اپنے گھر والوں سے بالکل تعلق ختم کرلوں، بیوی نے پھر یہ بھی کہا کہ میں قسم بھی کھاؤں کہ میں اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا، جبکہ میرے گھر والوں نے میری بیوی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا، میرے گھر والوں کی میری بیوی کے ساتھ کچھ منہ ماری ہوئی بعض محفلوں میں ، میں نے اس کے لئے الگ کچن تیار کر کے دے دیا اپنے گھر میں جہاں ہم سب رہتے ہیں ایک ساتھ ، آخر کار 4 ستمبر کو ہمارا ایک جھگڑا ہوا جس میں میری بیوی نے میرے گھر والوں کو موردِ الزام ٹھہرایا، تو میں نے کہا کہ اس موضوع پر ہمارے گھر والوں کے مسئلوں میں آپ مداخلت نہ کریں، یہ مسئلہ اتنابڑھ گیا کہ بیوی نے اپنے بھائی کو بلایا کہ اس کو گھر لے جائیں، جس میں میں نے روک ٹوک کی اور اپنے گھر والوں کو بھی بلایا، لیکن پھر بھی وہ اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ، اب بیوی خلع کا مطالبہ کر رہی ہے، اور جدائی بھی طلب کر رہی ہے، میں نے کبھی اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ، جسمانی ہو یا زبانی، میں نے اسے ہر ضرورت فراہم کی اور اچھی زندگی بھی دی امیروں کی طرح، لیکن پھر بھی بیوی اور اس کے گھر والے مسلسل خلع طلب کر رہے ہیں، میری آپ راہ نمائی فرمائیں اس مسئلہ کی بابت کہ کیا یہ خلع جائز ہے بغیر کسی ٹھوس دلیل کے ؟ امید ہے آپ میری جلد از جلد راہ نمائی فرمائیں گے۔
سائل نے اگر واقعۃً اپنی بیوی کو الگ اور مستقل رہائش مہیا کر دی ہے، اور اسے تمام سہولتیں بھی فراہم کر رہا ہے ، تو ایسی صورتِ حال میں سائل کی بیوی یا اس کے گھر والوں کا محض وقتی لڑائی جھگڑے کو بنیاد بنا کر سائل سے خلع کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، لہذا سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ وہ اپنے گھر کو آباد کرنے کی فکر کرے، اور بلا وجہ علیحد گی یا پراپرٹی وغیرہ اپنے نام کرانے کے لئے اصرار نہ کرے، اور اسی طرح سائل کی بیوی کا سائل کو اپنے گھر والوں سے قطعِ تعلقی پر مجبور کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائل کے گھر والوں پر بھی لازم ہے کہ آئندہ کے لئے وہ اس کی بیوی کے ساتھ منہ ماری اور لڑائی جھگڑے سے مکمل اجتناب کریں، اور آپس میں صلح صفائی اور ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے خوشحال زندگی بسر کرنے کی فکر کریں۔
كما في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المنتزعات والمختلعات هن المنافقات» . رواه النسائي اھ (2/ 980)۔