امامِ مسجد ، مسجد کے واش روم صاف کرے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
امام صاحب عصر و عشاء کی سنتیں نہیں پڑھتے ، ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
نماز تو اس کی اقتداء میں درست ادا ہو جائےگی،مگر اہلِ محلہ کو چاہیۓ کہ اس کام کے لۓ دوسرے آدمی کو مقرر کریں اور اگر اس کے باوجود امام صاحب خود اپنی عاجزی یا ضرورت کی بناء پر ایسا کرتا ہو تو اس کو چاہیۓ کہ نماز کے لۓ صاف کپڑے استعمال کرے اور اگر عشاء کے بعد کی سنتِ مؤکدہ چھوڑتا ہو ، تو اس کو معمول نہ بنائے، جبکہ عصر سے قبل سنت چونکہ غیر مؤکدہ ہے ، اس لۓ اس کا ترک کرنا گناہ نہیں ہے۔
فی حاشية ابن عابدين : حكم السنة أن يندب إلى تحصيلها و يلام على تركها مع لحوق إثم يسير اهـ . و عن هذا قال في البحر : إن الظاهر من كلامهم أن الإثم منوط بترك الواجب أو السنة المؤكدة لتصريحهم بإثم من ترك سنن الصلوات الخمس على الصحيح اھ (1/ 474)۔
و فی أحكام القرآن للجصاص : و قوله تعالى ﴿خذوا زينتكم عند كل مسجد﴾ يدل على أنه مندوب في حضور المسجد إلى أخذ ثوب نظيف مما يتزين به اھ (4/ 207)۔
و فیه أیضا : و قوله تعالىٰ ﴿و ثيابك فطهر﴾ يدل على وجوب تطهير الثياب من النجاسات للصلاة و أنه لا تجوز الصلاة في الثوب النجس لأن تطهيرها لا يجب إلا للصلاة اھ (5/ 369)۔