السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بعض دفعہ امام کو نماز میں سہو ہوجاتا ہے ،مثلاً قعدۂ اخیرہ کے بعد امام صاحب اٹھنے لگے تو مقتدیوں نے لقمہ دیا تو بیٹھ گئے ، اب جو لوگ بعد میں شریک ہو کر مسبوق بنے انکو معلوم نہیں تھا کہ یہ قعدۂ اولی ہے یا اخیرہ، وہ بھی امام کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے ، پھر امام کے ساتھ بیٹھ گئے ، تو ان مسبوقوں کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ کیا فساد کا حکم لگے گا کہ انہوں نے غیر نماز میں امام کی اتباع کی ہے یا نماز درست مانی جائے گی؟
واضح ہو کہ جب امام قعدۂ اخیرہ میں بقدرِتشہد بیٹھنے کے بعد پانچویں رکعت کے لۓ کھڑا ہوجائے تو پیچھے کھڑے مقتدیوں کو امام کی اتباع نہیں کرنی چاہیۓ ، تاہم اگر مقتدی بھی اگلی رکعت کے لۓ کھڑے ہوجائیں تو مسبوقین کی نماز فاسد ہو جائے گی، لہٰذا اُن پر اپنی نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔
فی الدر المختار : و لو قام إمامه لخامسة فتابعه ، إن بعد القعود تفسد اھ (1/ 599)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو قام الإمام إلى الخامسة فتابعه المسبوق إن قعد الإمام على رأس الرابعة تفسد صلاة المسبوق الخ(1/ 92)۔
و فی الدر المختار : (و إن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد و سلم) و لو سلم قائما صح ؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه ، فإن عاد تبعوه اھ (2/ 87)۔