اگر کوئی شخص کے منہ سے طلاق کے الفاظ نکلے اور پھر اس کو شک ہوں کہ میں نے الفاظ کسی طرح ادا کیا پھر یہ بندہ اپنے ساتھ اس طلاق کے بارے میں بول رہا ہے کہ میں نے طلاق ایسا بولا تو کیا بعد میں بولے جانے والے طلاق سے طلاق ہوتا ہے ؟ جو اپنے ساتھ مسئلہ معلوم کرنے کے لیے بولا تھا۔
سوال میں سائل نے الفاظ طلاق درج نہیں کئے کہ اس نے پہلے کیا الفاظ ادا کئے بہر کیف بعد میں محض غور کیلئے دوبارہ ان کے دھرانے سے جب مزید کی نیت نہ ہو تو اس سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہو گی۔
کمافی درالمحتار: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا، كما لو شك أطلق أم لا، ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الاقل اھ(212)
وفی الأشباہ والنظائر: قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل(ومنھا) شك هل طلق أم لا لم يقع
وفی حاشیة الطحطاوی: حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف اهـ. (3/278)