میں اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش نہیں ہوں، مجھے معلوم ہے کہ میں اس زندگی کے علاوہ خوش رہ سکتی ہوں،م یں دماغی طور پر پریشان اور مضطرب ہوں، کیا میں طلاق لے سکتی ہوں ؟
واضح ہو کہ سائلہ نے طلاق لینے کی کوئی خاص وجہ ذکر نہیں کی، اس لئے بلا کسی شرعی عذرمحض وقتی طور پر خوشی ناخوشی کی بنا پر طلاق لینے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے متعلق سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ جو عورت بلا کسی عذر کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے ، لہذا اگر کوئی خاص وجہ نہ ہو تو سائلہ کو چاہیئے کہ بلا وجہ طلاق لینے سے احتراز کرے اور اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے۔
كما قال اللہ تعالی فی القرآن الکریم ﴿ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِیحُۢ بِإِحۡسَٰنࣲۗ وَلَا یَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُوا۟ مِمَّاۤ ءَاتَیۡتُمُوهُنَّ شَیۡءًا إِلَّاۤ أَن یَخَافَاۤ أَلَّا یُقِیمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا یُقِیمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡهِمَا فِیمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰۤئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩﴾
وفي سنن ابي داؤد: عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة» اھ(2/268)