امامت و جماعت

امامِ مسجد اور اس کے نائب کی غیر موجودگی میں امامت کون کراۓ ؟

فتوی نمبر :
47457
| تاریخ :
2021-09-24
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امامِ مسجد اور اس کے نائب کی غیر موجودگی میں امامت کون کراۓ ؟

میں ایک مسجد میں خادم مقرر ہوں اور میں حافظ نہیں ہوں اور ہماری مسجد میں دو امام ہیں ، ایک بڑا امام ہے اور دوسرا اس کا نائب مقرر ہے ، مؤذن کی طبیعت خراب ہو یا مؤذن اپنے گھر چلا جائے ، تو کبھی نائب امام نہیں ہوتا ، ایک ہماری مسجد کے مقتدی ہے ، حافظ ہے ،پر ان کے پیچھے بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے ، اس صورت میں نماز کس کو پڑھانی چاہیۓ ؟ خادم کو یا اس حافظ قرآن کو ؟ جس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں ، جواب کا منتظر ہوں میں ، جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مقررہ امامِ مسجد اور اس کا نائب موجود نہ ہوں ، تو کوئی بھی نمازی جو مسائلِ نماز سے واقف اور باشرع ہو ، نماز پڑھا سکتا ہے، اس لۓ اگر مذکور حافظِ قرآن پر کسی معقول وجہ سے اعتراض کرتے ہوں ، تو خادمِ مسجد نماز پڑھائے یا پھر کوئی دوسرا باشرع شخص نماز پڑھائے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی المحیط البرهانی : رجل أم قوما و هم له كارهون ؛ إن كانت الكراهية لفساد فيه ، أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره له أن يؤمهم ، هكذا روى الحسن البصري عن أصحاب رسول الله عليه السلام ، و إن كان هو أحق بالإمامة منهم و لا فساد فيه ، مع هذا يكرهون إمامته لا يكره له أن يؤمهم اھ (۵/ ۳۱۵)۔
و فی النتف فی الفتاوی : و تجوز امامة عشرة نفر لعشرة نفر بالاتفاق ، احدها امامة الجاهل للعالم (إلی قوله) و السابع امامة رجل و القوم له كارهون (إلی قوله) و التاسع امامة الفاسق للبررة اھ (۱/۹۵)۔
و فی بدائع الصنائع : و ذكر في كتاب الصلاة و قدم الأقرأ فقال : و يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله - تعالى - و أعلمهم بالسنة و أفضلهم ورعا و أكبرهم سنا ، و الأصل فيه ما روي عن أبي مسعود الأنصاري - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه و سلم - أنه قال : «ليؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله ، فإن كانوا سواء فأعلمهم بالسنة ، فإن كانوا سواء فأقدمهم هجرة ، فإن كانوا سواء فأكبرهم سنا ، فإن كانوا سواء فأحسنهم خلقا ، فإن كانوا سواء فأصبحهم وجها» ، ثم من المشايخ من أجرى الحديث على ظاهره و قدم الأقرأ لأن النبي - صلى الله عليه و سلم - بدأ به ، و الأصح أن الأعلم بالسنة إذا كان يحسن من القراءة ما تجوز به الصلاة فهو أولى ، كذا ذكر في آثار أبي حنيفة اھ (۱/ ۱۵۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47457کی تصدیق کریں
0     1002
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات