اگر کوئی ذہنی بیماری ( جس میں انسان کا دماغ حقیقت اور خیال میں فرق نہیں کر سکتا) کی حالت میں طلاق دے، تو اس کی کیاشرعی حیثیت ہو گی ؟
واضح ہو کہ اگر ذہنی بیماری اس حد تک بڑھ گئی ہو کہ جس کی وجہ سے اچھے بُرے کی تمیز ہی نہ رہے، اور اس کو بالکل بھی اپنےافعال واقوال کا علم نہ ہو ،تو ایسی حالت میں طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع نہ ہو گی، لیکن اگر ذہنی بیماری اس حد تک نہ پہنچے تو پھر ایسی صورت میں طلاق دینےسے طلاق شرعا واقع ہو جائیگی۔
کما فی ردالمحتار: (قوله أو مريضا) أي لم يزل عقله بالمرض بدليل التعليل ط(الی قوله) (قوله لوجود التكليف) علة لهما اھ(3/ 242)
وفی البدائع: فيقع طلاق المريض والكافر لأن المرض والكفر لا ينافيان أهلية الطلاق اھ(4/ 219)