شوہر نے بیوی کو ایک سال پہلے غصے میں ایک دفعہ کہا، " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" پھر میاں بیوی نے صلح کر لی اب چند دن پہلےپھر اگلی لڑائی ہو گئی، تو شوہر نے غصے میں یہ الفاظ کہہ دیے کہ "طلاق چاہیئے تو دے دیتا ہوں طلاق ، طلاق دیتا ہوں " کیا جو شوہر نے اس بار طلاق کے جو الفاظ بولے ہیں ، اس سے بقیہ دونوں طلاقیں استعمال ہو گئیں، یا پھر یہ ایک طلاق شمار کی جائے گی، اس بات پر ضرور غور فرمائیے کہ شوہر نے پہلے کہا، ”طلاق چاہئیے تو دے دیتا ہوں طلاق" اور پھر کہا " طلاق دیتا ہوں " کیا طلاق دے دیتا ہوں " کہنا ایک الگ طلاق شمار کی جائے گی ، یا پھر یہ دونوں ایک ہی طلاق شمار کی جائے گی۔
صورت مسئولہ میں شوہر نے پہلی طلاق کے بعد اگر دورانِ عدت رجوع کر لیا ہو تو اسکے بعد ان کا میاں بیوی کی طرح رہنا جائز تھا،مگر آئند ہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار تھا، اب حالیہ واقعہ میں شوہر نے جو الفاظ کہے ان میں سے پہلے والے الفاظ "طلاق چاہئے تو وید یتا ہوں طلاق " چونکہ طلاق دینے کے لئے نہیں بلکہ استفسار کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، اس لئے ان الفاظ سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اسکے بعد شوہر نے جو الفاظ کہے ”طلاق دیتا ہوں " ان الفاظ سے اسکی بیوی پر مزید ایک طلاق واقع ہو کر مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، لہذا اسکے علاوہ اگر شوہر نے مزید کوئی طلاق نہ دی ہو تو اب اسے عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، البتہ اگر اس نے عدت میں رجوع نہ کیا تو پھر دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے کے لئے با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا، جب بھی وہ بقیہ ایک طلاق بھی دیدیگا تو اس سے اس کی بیوی حرمت ِمغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في التنزيل العزيز: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ :230)
وفی الھدایة: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض "(2/254)-