میری بیوی نے اقرار کیا ہے کہ مجھے غصے پر قابو نہ پانے کا مسئلہ ہے جس میں ایک بندہ غصے میں ایسی بات کہہ جاتا ہے، جسکا وہ ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی اسکو احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اسکو یاد ہو کہ اس نے کیا کہا اب میری بیوی اس چیز کا اقرار کر رہی ہے کہ میں نے اسکو اس حالت میں کئی بار طلاق دی ہے ، اور مجھے اسمیں سے کچھ بھی یاد نہیں، الا ایک مرتبہ کہ میں نے اسکو فون پر ایک طلاق دی تھی، جس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا ، اور اب و دہ یہ کہہ رہی ہے کہ شرعی طور پر ہماری طلاق ہو چکی ہے اور مجھے اسکے بارے میں کچھ معلوم نہیں کیا آپ اس معاملے میں رہنمائی کر سکتے ہیں ؟
سائل نے اپنی بیوی کو فون پر جو ایک طلاق دی تھی وہ تو واقع ہو چکی ہے جسکے بعد عدت کے دوران رجوع کرنے سے رجوع بھی ہو چکا ،جبکہ باقی طلاقوں کے متعلق سائل کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں اس لئے اسکے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا، لہذا سائل اور اسکی بیوی کو چاہیئے کہ کسی قریبی مستند دار الافتاء میں حاضر ہو کر وہاں موجود مفتیانِ کرام کے سامنے کی مکمل وضاحت کر کے ان سے حکمِ شرعی معلوم کریں۔
كما في التنزيل العزيز : الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تسریح باحسان (سورة البقرة / 229)
وفي الفتاوى الهندية: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئاكذا في الكنز (354/1)
وفي الدر المحتار : باب الصريح ( صريحه ما لم يستعمل إلا فيه ولو بالفارسيةكطلقتك وأنت طالق ومطلقة) ويقع بها أي بهذ الألفاظ وما بمعناها من الصريح (واحدة رجعية) اھ(249/248/247/3)