تعذیر و جرمانہ

دس سالہ لڑکے کا بکری سے بدفعلی کرنا اور بکری سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
47676
| تاریخ :
عقوبات / حدود و سزا / تعذیر و جرمانہ

دس سالہ لڑکے کا بکری سے بدفعلی کرنا اور بکری سے متعلق حکم

ایک لڑکا جس کی عمر ۱۰ سال ہے، وہ ایک بکری کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا، اور دوسرے لڑکے نے دیکھا ہے، جس لڑکے نے دیکھا ہے ،اس کی عمر ۱۶ سال ہے، اب بکری کے ساتھ کیا کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرنا انتہائی قبیح وملعون عمل ہونے کے ساتھ قابلِ تعزیر عمل بھی ہے، لہٰذا فعلِ بد سے اجتناب لازم ہے، اگر کسی نے اس فعلِ بد کا ارتکاب کیا، تو اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہے، جبکہ جس جانور سے بدفعلی کی گئی ہے، اگر وہ حلال اور اس سے بدفعلی کرنے والے کی ملکیت ہو تو اسے ذبح کر کے کھا لینا چاہیئے ، اور اگر وہ حرام جانور ہو تو اسے ذبح کر کے جلا دینا چاہئیے ، البتہ اگر وہ کسی اور شخص کا جانور ہو ،اس کا مالک قیمت لے کر جانور ذبح دینے پر راضی ہو تو اِسے قیمت دے کر درجِ بالا دونوں طریقوں کے مطابق عمل کرنا چاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن الترمذي: عن عمرو بن أبي عمرو، فقال: «ملعون من عمل عمل قوم لوط»، ولم يذكر فيه القتل، وذكر فيه «ملعون من أتى بهيمة» (4/ 58)۔
و في تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: وما روي عن عمر أنه أتي برجل وقع في بهيمة فعزر الرجل وأمر بالبهيمة فأحرقت كان لقطع التحدث به لأنه ما دامت باقية يتحدث الناس به فيلحقه العاربذلك لا لأن الإحراق واجب ثم إن كانت الدابة مما لا يؤكل لحمها تذبح وتحرق لما ذكرنا وإن كانت مما يؤكل لحمها تذبح وتؤكل عند أبي حنيفة - رحمه الله - وقالا تحرق هذه أيضا هذا إن كانت البهيمة للفاعل وإن كانت لغيره يطالب صاحبها أن يدفعها إليه بقيمتها ثم تذبح هكذا ذكروا ولا يعرف ذلك إلا سماعا فيحمل عليه. (3/ 181، 182)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتذبح ثم تحرق) أي لقطع امتداد التحدث به كلما رئيت وليس بواجب كما في الهداية وغيرها، وهذا إذا كانت مما لا تؤكل، فإن كانت تؤكل جاز أكلها عنده. وقالا: تحرق أيضا، فإن كانت الدابة لغير الواطئ يطالب صاحبها أن يدفعها إليه بالقيمة ثم تذبح، هكذا قالوا ولا يعرف ذلك إلا سماعا فيحمل عليه زيلعي ونهر (قوله الظاهر أنه يطالب ندبا إلخ) أي قولهم يطالب صاحبها أن يدفعها إلى الواطئ ليس على طريق الجبر. وعبارة النهر: والظاهر أنه يطالب على وجه الندب، ولذا قال في الخانية كان لصاحبها أن يدفعها إليه بالقيمة. اهـ. وعبارة البحر: والظاهر لا يجبر على دفعها. [تنبيه] لو مكنت امرأة قردا من نفسها فوطئها كان حكمها كإتيان البهائم جوهرة أي في أنها لا حد عليها بل تعزر. وهل يذبح القرد أيضا؟ مقتضى التعليل بقطع امتداد التحدث نعم فتأمل اھ (4/ 26)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47676کی تصدیق کریں
0     819
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خود اپنے نفس پر کسی گناہ کی سزا متعین کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • حکومت کے ظالمانہ ٹیکس کی ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   تعذیر و جرمانہ 0
  • قسط کی عدم ادائیگی پر جرمانہ عائد کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • چوری کے پیسے واپس کرنے میں پکڑے جانے کا ڈر ہو تو کیا کریں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • پرندہ زورسے پکڑنےپر مرنے سے کوئی کفارہ دینا ہوگا؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • چوری شدہ مال اور اس سے حاصل شدہ منافع دونوں واپس کرنا لازم ہے

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • دس سالہ لڑکے کا بکری سے بدفعلی کرنا اور بکری سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • ملازم کی چوری کی وجہ سے اسکی تنخواہ اور فنڈ ضبط کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • دیت لینے سے مقتول کو انصاف ملے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • صلح میں لڑکی کا نکاح کرانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بچے کو دوائی دینے سے اس کی موت کی صورت میں اس کی ماں پر کیا کفارہ آئے گا ؟

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات