ہمارے مسجد کی ملحقہ آبادی ۱۵ گھروں پر مشتمل ہے، اس لیے مستقل امام نہیں رکھ سکتے، لہٰذا جاننا یہ ہے کہ امامت کے لیے کون سے ضروری کوائف ہوں تاکہ ہماری نمازیں اللہ کو مقبول ہوں۔
آبادی کے لوگوں میں سے جو شخص امامت کے ضروری مسائل جانتا ہے، قرأت قرآن پر بھی قادر ہو، اس کی وضع قطع بھی شرع کے مطابق ہو وہ امامت کرا سکتا ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة. هكذا في المضمرات وهو الظاهرهكذا في البحر الرائق هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة اھ (1/ 83) واللہ أعلم بالصواب!