السلام علیکم جناب! میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں اور اولاد نہیں ہے ، والدہ اور سب گھر والے میری بیوی کو شدید نا پسند کرتے ہیں اسکی کچھ خراب عادات کی وجہ سے ،اور وہ تین ماہ سے میکے میں ہے پر وہ واپسی کیلئے رضامند ہے اور میرے گھر والے نہیں مان رہے والدہ اور سب گھر والے اسکو میرے لیئے صحیح نہیں سمجھتے اولاد اور عادات کی وجہ سے، پر میں ان سب سے اتفاق نہیں کرتا؟ والدہ یہ کہتی ہیں کہ اسے نہیں چھوڑا ،اور سامنے بھی لائے تو مجھے کچھ ہو جائے گا اور اسکا ذمہ دار میں ھونگا؟ اور یہ کہ مرنے کے بعد میرا منہ نہ دیکھنا ، مجھ سے اپنی ماں کی یہ تکلیف نہیں دیکھی جاتی اور نہ ہی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ھوں؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کے کیا کروں ؟؟؟؟ جزاک اللہ
سائل کی بیوی میں اگر واقعی کوئی ایسی خرابی نہ ہو جس کی وجہ سے اس کو طلاق دینا لازم ہو تو محض عورتوں کی لڑائی اور گھر والوں کی ناپسندی کی وجہ سے طلاق دینا سائل پر لازم نہیں بلکہ اس طرح کی معمول باتوں کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا نا سمجھی پر مبنی عمل ہے اس لئے سائل کو ساس بہو کی لڑائی کی وجہ سے اپنا گھر خراب نہیں کرنا چا ہیئے بلکہ دونوں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ افہام و تفہیم سے ان کے معاملات کو بھی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : ( عن ابن عمر رضي الله عنهما قال كانت تحتي امرأة أحبها وكان عمر يكرهها فقال لي طلقها فأبيت أي امتنعت لأجل محبتي فيها فأتى عمر رسول الله فذكر ذلك له فقال لي رسول الله طلقها ) أمر ندب أو وجوب إن كان هناك باعث آخر رواه الترمذي وأبو داود وكذا النسائي وابن ماجه وابن حبان في صحيحه وقال الترمذي حديث صحيح نقله ميرك عن المنذري اهـ (225/14)۔
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق اهـ (599/3) والله اعلم