امامت و جماعت

مسبوق ،مکبر بن سکتاہے؟

فتوی نمبر :
48320
| تاریخ :
2021-12-01
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق ،مکبر بن سکتاہے؟

مسبوق مکبر ھو سکتا ھے کہ نہیں ؟۔ اگر مسبوق مکبر ھو سکتا ھے تو اگر امام سلام پھیر دے تو مسبوق پیچھے والے افراد کو السلام علیکم کے لیے ل آواز دے سکتا ہے کہ نہیں ؟ اگر کسی نے آواز دی تو اس کا نماز صحیح ہوگا یا فاسد؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کسی نماز میں امام کی آواز دور والے مقتدیوں کو نہ پہنچ رہی ہو تو ایسی صورت میں کسی ایک شخص کو آواز پہنچانے کے لیے مکبر بن جانا چاہیے اور مسبوق بھی بوقتِ ضرورت مکبر بن سکتا ہے، تاہم اگر کہیں مسبوق مکبر بن جائے تو ایسی صورت میں امام کے ساتھ سلام پھیرنا اور اس کے لیے آواز بلند کرنا درست نہیں، اگر مسبوق امام کے ساتھ جان بوجھ کر سلام پھیر لے یا یہ سمجھتے ہوئے سلام پھیر لے کہ اس پر امام کے ساتھ سلام پھیرنا لازم تھا تو اس صورت میں اس مسبوق کی نماز باطل ہو جائےگی اور اس کے ذمہ اعادہ لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: [تنبيه] يؤخذ مما قدمناه من أنه لا يحصل الإعلام من غير العدل ولا يقبل قوله أنه لا يجوز الاعتماد على المبلغ الفاسق خلف الإمام كما نبه عليه بعض الشافعية، فتنبه لهذه الدقيقة اھ (1/ 394)
وفیه أیضاً: (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه اھ (2/ 82)
وفیه أیضاً: (قوله ولو سلم ساهيا) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أنه - عليه السلام - معه فهو سلام عمد فتفسد كما في البحر عن الظهيرية (قوله لزمه السهو) لأنه منفرد في هذه الحالة. (1/ 599) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد طہ ریاض عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 48320کی تصدیق کریں
0     819
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات