کیا شوہر اگر اپنی زوجہ کو بولے غصے میں ”آو ( بیوی کا نام) تمہیں طلاق دوں آؤاب ڈرو نہیں ڈرکیوں رہی ہو آؤ ناں “ تو کیا طلاق ہوگئی ؟ اور اس کے علاوہ طلاق معلق دینے کے لیے یہ بولے " تم نے اگر فلاں کام کیا تو تمہیں اسی وقت طلاق دے دوں گا" دونوں صورتوں میں طلاق ہو گی یا نہیں؟
مذکورہ الفاظ " آؤ تمہیں طلاق دوں‘‘ آؤ اب ڈرو نہیں ، ڈر کیوں رہی ہو " تم نے اگر فلاں کام کیا تو تمہیں اس وقت بھی طلاق دیدوں گا" سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ آئندہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہئے۔
کما فی الفتاوى الهندية : فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقااھ(384/1)
وفي تنقيح الحامدية: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق الا اذا غلب في الحال كما صرح به الكمال ابن الهمام (ج 1 / ص 38)