اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے تحریری طلاق نامہ موصول ہو اور اس میں ایک گواہ نے غلط بیانی سے کام لیا ہو تو عورت کو کیا کرنا چاہیئے ؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کیلئے گواہوں کا ہونا لازمی نہیں لہذا صورت مسئولہ میں اگر چہ گواہ نے غلط بیانی سے کام لیا مگر جب شوہر نے اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے تحریری طور پر طلاق دیدی ہے، تو اس سے اس کی بیوی پر شرعاً بھی طلاق واقع ہو چکی ہے ۔ تاہم اگر مذکور واقعہ کی مکمل تفصیل ذکر کردی جائے تو اس پر غور وفکر کے بعد تفصیلی جواب سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔