کیا مباشرت کے چار دن کے بعد اگر ایک طلاق دی جائے تو وہ پہلی طلاق شمار ہوگی ، اگر ہاں تو کیوں ،اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
شوہر طلاق کے الفاظ جس حالت میں بھی استعمال کرے وہ شمار ہوتے ہیں اور جتنے الفاظ استعمال کرے اتنے ہی شمار ہوتے ہیں،چنانچہ مباشرت کے بعد بھی اگر شوہر نے ایک طلاق دیدی تو وہ ایک طلاق شمار ہو گی ،شوہر کیلئے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار ہو گا اور آئندہ اس کے پاس دو طلاقوں کا اختیار رہے گا جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی۔
كما في الفتاوى الهندية :والبدعى من حيث الوقت ان يطلق المدخول بها وهي من ذوات الاقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه، وكان الطلاق واقعا (349/1)
وفي رد المحتار :والبدعى ثلاث متفرقة أو ثنتين بمرة او مرتين في طهر واحد لا رجعة فيه أو واحدة فى طهر وطئت فيه او (حيض موطؤة) (الى قوله) (تجب رجعتها) على الأصح اھ (234/3)۔ واللہ اعلم بالصواب