السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ پہلی جماعت کے ختم ہوجانے کے بعد مسجد سےمتصل مدرسہ میں امام کھڑا ہوتا ہے اور ان کے پیچھے ایک صف بھی ہوتی ہے، بقیہ مقتدی حضرات مسجد کی پہلی، دوسری، تیسری منزل اور بائیں جانب مسجدکےصحن میں کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ محراب سےمتصل پیچھے تک صفوں کو پہلی جماعت کے احترام میں چھوڑ دیا جاتا ہے، واضح رہے کہ یہ مسئلہ رمضان کی عشاء کی فرض نماز اور تراویح کے متعلق ہی ہے، اگر جماعت قائم نہ کی جائے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ زیادہ ترشریک ہونے والےتُجار اوردکاندارحضرات ان نماز تراویح سے محروم ہوجائیں گے تو ایسی جماعت کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مسجد میں جماعت کےساتھ نماز پڑھنے کے بعد اس میں دوسری جماعت کرنا مکروہ ہے، اس لیے تمام لوگوں کو چاہیے کہ فرض نماز تو بہرصورت پہلی جماعت کیساتھ امام کی اقتداء میں ادا کرنے کا اہتمام کریں۔ تاہم اگر یہ لوگ مسجد میں ختم قرآن پر مشتمل تراویح میں شرکت نہیں کر سکتے، تو فرض نمازکے بعد مدرسہ میں جماعت کیساتھ مختصر تراویح پڑھ سکتے ہیں۔
كما في إعلاء السنن: فيه دلالة صريحة على أن الصحابة إذا فاتتهم الجماعة كانوا يصلون فرادى من غير أن يجمعوا الصلاة ثانية، وقوله: قد عابه بعضهم: يدل على كراہة الجماعة الثانية عند السلف، والمراد بالسلف في كلام المجتهدين ہم الصحابة والتابعون رضي الله عنهم - (265/4)۔
و في المبسوط للسرخسي: وإذا دخل القوم مسجداً وصلى فيه أہله كرہت لهم أن يصلوا جماعة بأذان وإقامة، ولكنهم يصلون وحدانا بغير أذان ولا إقامة - (135/1)۔
و في حاشية منحة الخالق على البحر الرائق للعلامة الشامى : قد صلى فيه أہله فإنه يصلي بغير أذان وإقامة؛ لأن تكرار الجماعة تقليلها، وہذا روي عن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أنهم إذا فاتتهم الجماعة صلوا وحدانا - اھ (605/1)۔
و في الدر: (وقيل واجبة وعليه العامة) اى مشايخنا و به جزم فى التحفة وغيرها قال في البحر و ہو الراجح عند اهل المذهب اھ (346/2)۔