"ڈیمینشیا "کے شکار مریض کی طلاق کا کیا حکم ہے ؟ اگر مذکورہ بیماری کا مریض کسی کو بھی نہ پہچانتا ہو یعنی ایک وقت میں مکمل یاداشت چلی گئی اور اس وقت اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو کیا یہ طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ؟ بینوا تؤجروا۔
واضح ہو کہ اگر "ڈیمینشیا "کا شکار مریض ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنے ماں، باپ، بیوی اور بچوں تک کو نہیں پہچانتا، اور ان میں تمیز نہ کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں اس شخص پر مجنون کے احکام جاری ہونگے ، اور جس طرح مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس طرح "ڈیمینشیا "کے اس مریض کی بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر وہ اپنی صحت والی کیفیت میں با قاعدہ ہوش و حواس میں بیوی کو طلاق دیدے تو پھر اسکی طلاق واقع ہو جائے گی۔
کمافی الھندیة: ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرةالنيرة.(1/353)
وفی ردالمحتار: (قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه اھ(3/230)-