امامت و جماعت

موزوں پر مسح کرکے نماز پڑھانے وا لے شخص کی اقتداء کا حکم

فتوی نمبر :
49247
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

موزوں پر مسح کرکے نماز پڑھانے وا لے شخص کی اقتداء کا حکم

کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صبح کی نماز کے لئے وضوء کرکے چمڑے کے موزے پہن لیتا ہے ؟ پھر باقی نمازیں موزوں پر مسح کرکے پڑھاتا ہے ، کیا ایسے امام کی امامت جائز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمادیں ، جزاک اللہ أحسن الجزاء ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

طہارتِ کاملہ کے ساتھ موزے پہن لیے ہوں تو ان پر مسح کرکے نماز پڑھنا ، پڑھانا جائز ہے ، اس سے سائل کو جو اعتراض ہے ، اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال ای میل کردے ، تو اس پر غور کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و هو جائز) فالغسل أفضل إلا لتهمة فهو أفضل ، بل ينبغي وجوبه على من ليس معه إلا ما يكفيه أو خاف فوت وقت أو وقوف عرفة بحر و في القهستاني أنه رخصة مسقطة للعزيمة و لهذا لو صب الماء في خفه بنية الغسل ينبغي أن يصير آثما(بسنة مشهورة) فمنكره مبتدع اھ (1/264)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49247کی تصدیق کریں
0     913
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات