کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صبح کی نماز کے لئے وضوء کرکے چمڑے کے موزے پہن لیتا ہے ؟ پھر باقی نمازیں موزوں پر مسح کرکے پڑھاتا ہے ، کیا ایسے امام کی امامت جائز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمادیں ، جزاک اللہ أحسن الجزاء ۔
طہارتِ کاملہ کے ساتھ موزے پہن لیے ہوں تو ان پر مسح کرکے نماز پڑھنا ، پڑھانا جائز ہے ، اس سے سائل کو جو اعتراض ہے ، اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال ای میل کردے ، تو اس پر غور کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما فی الدر المختار : (و هو جائز) فالغسل أفضل إلا لتهمة فهو أفضل ، بل ينبغي وجوبه على من ليس معه إلا ما يكفيه أو خاف فوت وقت أو وقوف عرفة بحر و في القهستاني أنه رخصة مسقطة للعزيمة و لهذا لو صب الماء في خفه بنية الغسل ينبغي أن يصير آثما(بسنة مشهورة) فمنكره مبتدع اھ (1/264)۔