میرا سوال یہ ہے کہ میں کسی سے بات کر رہاتھا اور میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کے لئے یہ کہہ دیا کہ بھاڑ میں جانے دو لیکن میرا اور کوئی ہرگز مطلب نہیں تھا کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا۔
سوال میں مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم یہ غیر مہذب الفاظ ہیں جس سے آئند ہ احتراز چاہیے۔
كما في رد المحتار:(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كنایة فخرج الفسوخ على مامر۔وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العددبالأصابع في قوله أنت طالق ھكذا كما سيأتی (٢٣٠/٣)