تصویر سازی

فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
49412
| تاریخ :
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / تصویر سازی

فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم

میں مصنوعات کی فوٹو گرافی کا کام شروع کر رہا ہوں، لیکن میرے والدین کو شک ہے کہ یہ فوٹوگرافی حرام ہے، اس لیے کاروبار سے پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا فوٹو گرافی کا کاروبار کرنا حرام ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی جاندار ذی روح کی تصویر بنانا جائز نہیں، اس سے حدیث میں ممانعت آئی ہے، البتہ اگر ان مصنوعات کی فوٹو گرافی کرتے وقت ان میں جاندار کی تصاویر لینے کی نوبت نہ آتی ہو، یا سائل فقط ڈیجیٹل فوٹو گرافی کا کام کرتا ہو، اور فوٹو گرافی کے دوران غیر شرعی امور (خواتین کے بے پردہ تصاویروغیرہ) سے اجتناب کرتا ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی مشکاۃ المصابیح: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ وَالْمُصَوِّرُونَ وعالم لم ينْتَفع بِعِلْمِهِ» (2/1277 رقم الحدیث 4509)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.(7/2849 رقم الحدیث 4491)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله ولبس ثوب فيه تماثيل) عدل عن قول غيره تصاوير لما في المغرب: الصورة عام في ذي الروح وغيره، والتمثال خاص بمثال ذي الروح (الی قولہ) وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، الخ (1/647)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نعیم خان سید مست عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 49412کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات