السلام علیکم ! مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیگم سے کہا تھا کہ میں آپ کے ساتھ آگے نہیں چل سکتا ،اور پھر اپنی والدہ سے کہا کہ آپ ان کے خاندان سے بولیں کہ یہ رشتہ آگےنہیں چل سکتا ،لیکن نیت میں طلاق کا کچھ نہیں تھا تو کیا اس پر طلاق واقع ہو گئی ؟
سوال میں مذکور الفاظ "میں آپ کے ساتھ آگے نہیں چل سکتا "کہنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،تاہم آئندہ کیلئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے ۔
فی الدر المختار:(باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب اھ (3/296)۔
وفی الفتاوى الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة اھ (1/374)۔ واللہ اعلم بالصواب