السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مولانا صاحب آپ سے ایک ضروری مسئلہ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنی ہیں، دراصل میں امید سے ہوں ایک ماہ کا حمل ہے، میرے شوہر کی آمدنی کم ہے اور میں خود بھی نوکری کرتی ہوں، ہماری ایک سال کی بیٹی بھی ہے ہمیں لگتا ہے کہ ہم آنے والی اولاد کو افورڈ نہیں کرسکتے ہیں، اور ہماری بیٹی کی بھی پرورش میں کمی آئے گی ، تو سب مسئلے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا حمل ضائع کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ رزق کی تنگی کے خطرہ سے اسقاط حمل تو جائز نہیں، بلکہ اس ڈر سے اسقاط کرانے کے متعلق قرآن کریم میں اشارۃً سختی سے منع کیا گیا ہے، البتہ اگر سائلہ اوراس کے شوہر دو بچوں کے درمیان وقفہ کرنا چاہتے ہوں، اور کوئی شرعی عذر ہو جس کی وجہ سے ڈاکٹر بھی اسقاط حمل کا مشورہ دیتا ہو، تو ایسی صورت میں چار ماہ کے اندر اس کی گنجائش ہے، اس مدت کے بعد اجازت نہیں ہے، جس سے احتراز لاز م ہے۔
کما فی تنزیل العزیز: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا (سورۃ الاسراء ایة 31)۔
وفی الھندیة: العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز (الی قولہ) امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك الخ (5/356)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وقالوا إلخ) (الی قولہ) فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل الخ (3/176)