اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اگر آپ نے فلاں کام نہیں چھوڑا ،تو آپکو طلاق دوں گا لیکن دماغ میں یہ بات واضح ہو کہ طلاق کا فیصلہ میں اس وقت کروں گا کہ دوں یا نہ دوں ،بلکہ یہ صرف وارننگ دے رہا ہوں کہ ایسا کرنا چھوڑ دے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے طلاق ہو جاتی ہے خود بخود ؟اگر بیوی وہ کام کر ے یا نہ کرے ،کیونکہ شوہر کی سوچ کے مطابق وہ پھر دینے کا فیصلہ کرے گا، مطلقاً طلاق کا فیصلہ نہیں تھا -
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شوہر نے جو الفاظ " اگر آپ نے فلاں کام نہیں چھوڑا تو آپ کو طلاق دوں گا " استعمال کیے ہیں ، ان الفاظ سے تعلیقِ طلاق منعقد نہیں ہوئی ،لہذا اگر بیوی نے وہ کام کر بھی لیا جس سے شوہر نے منع کیا تھا جب بھی اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
كما في الدر المختار: بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة ما لم يتعارف أو تنو الإنشاءاھ (320/3)۔
وفي حاشية ابن عابدين : وعبارة الجوهرة: وإن قال طلقي نفسك فقالت أنا أطلق لم يقع قياسا واستحسانا اھ (319/3)-