میں نے غصہ کی شدید حالت میں اپنی بیوی کو طلاق کا لفظ کہہ دیا ہے کیا طلاق ہو جائے گی وہ کہہ رہی ہے کہ فتوی چاہیئے ۔
شدید غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے بشر طیکہ طلاق دیتے وقت وہ شخص ہوش و حواس میں ہو۔ لہذا جب سائل نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے ، تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو چکی ہے، چنانچہ اگر سائل نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، لہذا عدت کے اندر اگر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، مگر آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔ جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی اسلئے آئندہ طلاق سے متعلق خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في رد المحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ 3 ص 244)
وفي مختصر القدوري :قوله أنت بائن( إلى قوله) وكانا في غضب أو خصومة وقع الطلاق اھ(ص: 156)
و في مختصر القدوري:فالصريح قوله: أنت طالق ومطلقه وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي ولايقع به إلا واحدة وإن نوى أكثر من ذلك ولا يفتقر إلى النية اھ(ص (155)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد اھ(3/ 180)۔