دو طلاق دینے اور دو گھنٹوں کے اندر رجوع کرنے کے بعداب دو سال بعد دوبارہ ہم نے چند چیزوں پر جھگڑا کیا تو میں نے صرف اسےدھمکاتے ہوئے کہا کہ " اگر آپ نے دوبارہ فلان فلان چیزوں کا اعادہ کیاتو میں تجھے طلاق دینے پر مجبور ہوں گا لہذا میرا سر کھانا اور لڑائی جھگڑا بند کر دو “اب ہم اس معاملے میں فکر مند ہیں ، ہم دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،میرا خیال ہےکہ یہ طلاق نہیں جبکہ اس کی سوچ ہےکہ اس سے طلاق واقع ہوئی ہے , برائےمہربانی اس معاملے پر روشنی ڈالیں , یہ اس کو اس لئے کہا تھا کہ وہ باز آجائے طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو دو طلاقیں دینے کے دو گھنٹے بعد ( یعنی عدت میں ) رجوع کر لیا تھا تو اس سے رجوع درست ہو چکا ہے اوردونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، لہذا حسبِ سابق دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، جبکہ اس کے بعد حالیہ لڑائی جھگڑے کے دوران اگر سائل نے واقعۃً مذکور الفاظ " اگرآپ نے فلاں فلاں چیزوں کا اعادہ کیا تو میں تجھے طلاق دینے پر مجبور ہوں گا" کہے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ حسبِ سابق نکاح بر قرار ہے اس لئے پریشان ہونےکی ضرورت نہیں، البتہ سائل کے پاس چونکہ فقط ایک طلاق کا اختیار باقی ہے اور جب کبھی سائل وہ ایک طلاق بھی دیدے گا تو اس کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اس پر حرام ہو جائیگی اس لئے آئندہ کے لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الدر المختار : بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة، (319/3)۔
وفي الفتاوى الهندية : بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال (384/1)۔
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلاإذا غلب استعماله في الحال كمافي فتح القدير. اهـ (271/3)