السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ ! حضرت مفتی صاحب زید مجدہم، مسجد کی ایک زمین ہے، جو 12 فٹ چوڑی اور تقریباً 70 فٹ لمبی ہے اور اس زمین سے متصل ایک زمین ہے، جو بکر کی ہے اور اس کی بھی چوڑائی12 فٹ ہے اور لمبائی تقریباً 70 فٹ ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کمیٹی والے اور بکر دونوں ملکر اپنی زمین (دونوں کی زمین) کو ملاکر ایک کمپلیکس بنوانا چاہتے ہیں، جس کی تعمیر ایک ساتھ ہوگی اور دونوں فریقین اس بات کے پابند ہوں گے کہ کوئی ایک اگر اس میں چینج کرنا چاہے یا ڈس مینٹل کر کے دوسرا کچھ بنوانا چاہے تو وہ نہیں بنوا سکتا، آنے والی مسجد کمیٹی کو بھی اسکا پابند رہنا ہوگا،کیا شرعاً ایسا کیا جا سکتا ہے؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور زمین مسجد تعمیر کرنے کے لئے وقف کی گئی ہے یا مسجد کے مصالح اور ضروریات کے لئے وقف ہے،تاہم مذکور زمین اگر مسجد تعمیر کرنے کے لئے وقف کی گئی ہو تو اس پر مسجد کے علاوہ کچھ تعمیر کرنا جائز نہیں،البتہ اگر یہ زمین مسجد کے مصالح اور ضروریات کے لئے وقف ہو اور کسی مصلحت اور فائدہ کے پیشِ نظر مسجدِ کمیٹی اور بکر دونوں زمینوں کو ملا کر ایک ساتھ تعمیر کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ اس کی وجہ سے مسجد کی زمین کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو،لیکن بعد میں مسجد کی مصلحت کے پیشِ نظر اگر مسجدِ انتظامیہ کوئی اقدام کرنا چاہے تو بکر کے لئے اسے روکنے کا اختیار نہ ہوگا۔
کمافی الھندیة:فلو جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس في الدخول والصلاة فيه إن شرط معه الطريق صار مسجدا في قولهم وإلا فلا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -وقالا: يصير مسجدا وتصير الطريق من حقه من غير شرط، كذا في القنية وفي السغناقي ولو عزل بابه إلى الطريق الأعظم يصير مسجدا، كذا ذكره الإمام قاضي خان، كذا في التتارخانية.ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه، ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس كذا في الهداية اھ(2/454)۔