السلام علیکم !
میرے میاں نے مجھے غصے میں اسٹامپ پیپر پر تین طلاق لکھوائیں ,مگر وہ ا نہوں نےمجھے نہیں دیا , آٹھ مہینے سے ان کے پاس تھا۔ دودن پہلے مجھے صفائی میں ملاتو میں نے ان سےکہا کہ آپ نے یہ مجھے کیو ں نہیں دکھایا پہلے ؟نہ میری فیملی کویہ دکھایا ,آپ کودکھاناچاہیے تھا مگر اس پے سائن نہیں ہے میرے شوہر کے , مگر گواہوں کے اس پر دستخط ہیں اور تین بار طلاق لکھی ہوئی ہے ؟ میری رہنمائی فرمائیں کیا طلاق ہوگئی یا نہیں ہوئی۔ برائے مہربانی مجھے جلدی جواب دیں تاکہ میں اس گناہ کا مزید حصہ نہ بنوں.
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو اسمیں کسی قسم کی غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام نہ لیا گیا ہو اور طلاق نامہ شوہر نے خود لکھا ہویا کسی کو لکھنے کا حکم دیا ہو تو اسٹامپ پیپر لکھنے کے وقت سے ہی سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر رجوع یا نکاح درست نہیں تھا، لہذا سائلہ کے شوہر کیلئے طلاق نامہ بنوانے کے بعد عرصہ آٹھ ماہ تک سائلہ کو اسکی اطلاع نہ کرنا اور سائلہ کیساتھ شوہر کی حیثیت سے رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات قائم کرنا شرعاً ناجائز و حرام تھا جسکی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے ،لہذا اس پر لازم ہیکہ اب بیوی سے علیحدگی اختیار کرے اور اب تک جو گناہ سر زد ہوا ہے اس پر بصدق دل تو بہ واستغفار کریں ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الدرالمختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا.(3/246)-
وفی ردالمحتار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط اھ(3/246)-
و فی الدرالمختار:(وإذا وطئت المعتدة بشبهة) . ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا، والمرئي)اھ (3/518)-
وفی ردالمحتار: (قوله: وإذا وطئت المعتدة) أي من طلاق، أو غيره هو منتقى، وكذا المنكوحة إذا وطئت بشبهة ثم طلقها زوجها كان عليها عدة أخرى وتداخلتا كما مر في الفتح وغيره (قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح اھ (3/518)