میں نے اپنی بیوی کو باہر جانے سے منع کیا، اور ساتھ کہا کہ تم اگر باہر گئی تو ایک طلاق ہو جائیگی، کیا اسکو عدت کرنی ہو گی، اگر میں خود اس کو اجازت دیدوں، ہاں تم چلی جاؤ تو کیا حکم ہے، کیا اسکے بعد بھی وہ ایک طلاق ہو جائیگی ؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو یہ الفاظ " اگر تم باہر گئی تو ایک طلاق ہو جائیگی " کہے ہیں، تو اس سے ایک طلاق رجعی معلق ہو گئی ہے، چنانچہ سائل کی بیوی جب بھی باہر جائے گی اگر چہ سائل کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو، تو شرط پائی جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل اگر عدت کے اندر رجوع کرلے تو نکاح بدستور برقرار رہے گا، ورنہ عدت گزرنے کے بعد یہ طلاق رجعی ، طلاق بائن بن جائے گی، جسکے بعد اگر میاں بیوی ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہو گا، بہر دو صورت سائل کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
كما في الفتاوى الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك اھ (420/1)۔
وفي اللباب : إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها. رضيت بذلك أو لم ترض والرجعة أن يقول راجعتك، أو راجعت امرأتي، أو يطأها، أو يقبلها، أو يلمسها بشهوة، أو أن ينظر إلى فرجها بشهوة ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين، فإن لم يشهد صحت الرجعة اھ (543)۔واللہ اعلم