اگر بیوی شوہر سے کہے کہ "میں گھر میں اکیلی ہوں تھوڑی دیر میرے پاس رہیں " اور اس کے جواب میں شوہر طلاق کی نیت سے کہے کہ " تم تو پہلے سے ہی اكيلی ہو" تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جائے گی ؟
واضح ہو کہ اگر بیوی شوہر کو مذکور الفاظ " میں گھر میں اکیلی ہوں تھوڑی دیر میرے پاس رہیں " کہے اور جواب میں شوہر طلاق کی نیت سے مذکور الفاظ "تم تو پہلے سے بھی اکیلی ہو " کہے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہو گا، چنانچہ اگر شوہر دوران عدت ( تین ماہواریاں گزرنےتک ) زبانی طور پریا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر کے یا شہوت کیساتھ بیوی کو چھو کر رجوع کرلے، تو دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگر دوران عدت رجوع نہ کرے ، تو عدت ختم ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا، اور دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن جائیں گے ، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ، تاہم اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدید نکاح لازم ہو گا، بہر صورت شوہر کے پاس آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
کمافى الہداية : وأما الضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال " لأنها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره فلا بد من التعيين أو دلالته. قال: " وهي على ضربين منها ثلاثة ألفاظ يقع بها الطلاق الرجعي ولا يقع بها إلا واحدة وهي قوله اعتدى واستبرئي رحمك وأنت واحدة ".أما الأولى: فلأنها تحتمل الاعتداد عن النكاح وتحتمل اعتداد نعم الله تعالى فإن نوى الأول تعين بنيته فيقتضي طلاقا سابقا والطلاق يعقب الرجعة.وأما الثانية: فلأنها تستعمل بمعنى الاعتداد لأنه تصريح بما هو المقصود منه فكان بمنزلته وتحتمل الاستبراء ليطلقها.وأما الثالثة: فلأنها تحتمل أن تكون نعتا لمصدر محذوف معناه تطليقة واحدة فإذا نواه جعل كأنه قاله والطلاق يعقب الرجعة ويحتمل غيره وهو أن تكون واحدة عنده أو عند قومه ولما احتملت هذه الألفاظ الطلاق وغيره تحتاج فيه إلى النية ولا تقع إلا واحدة لأن قوله أنت طالق فيها مقتضى أو مضمر ولو كان مظهرا لا تقع بها إلا واحدة فإذا كان مضمرا أولى وفي قوله واحدة وإن صار المصدر مذكورا لكن التنصيص على الواحدة ينافي نية الثلاث ولا معتبر بإعراب الواحدة عند عامة المشايخ وهو الصحيح لأن العوام لا يميزون بين وجوه الإعراب.(1/235)۔