چند جائز وجوہات کی بنا پر میں دوسری شادی کی تلاش میں ہوں، جب میں دوسری شادی کے لیے لڑکی کے والدین سے بات کرتاہوں تو وہ سب مجھے اپنی بیٹی دینے کے لیے راضی ہیں، لیکن مجھ سے میری موجود ہ بیوی کو چھوڑنے کا کہتے ہیں چونکہ وہ بیمار ہے اور بچے جننے کے قابل نہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اسے چھوڑو اور یہ اسلام میں حرام نہیں، جب کہ میں اپنی پہلی بیوی کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں، لیکن لڑکی والے اصرار کر رہے ہیں اور پھر اس کے بعد مجھے اپنی بیٹی سے شادی کا کہتے ہیں ، ابھی میں دوسری شادی کے لیے دلچسپی میں ہوں ،جبکہ میں اپنی پہلی بیوی کو بھی نہیں چھوڑ رہا ۔مہربانی فرماکر مشورہ دیجیے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
سائل اگر دو بیویوں کے حقوق ، نان ونفقہ و غیرہ اور دونوں بیویوں کے درمیان برابری کرنے پر قادر ہو ،تو سائل کے لیے دوسری شادی کرنا جائز اور درست ہے، مگر دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کو طلاق دینا یا اپنے سے علیحدہ کر نالازم نہیں،اس لیے لڑکی والوں کا یہ مطالبہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے جس کا ماننا سائل پر شر عالازم نہیں، بلکہ سائل دوسری شادی کے لیے کسی ایسے گھرانے میں رابطہ کر سکتا ہے ، جہاں اس طرح کی شرائط اور بے جا قیود نہ ہوں۔
فی سنن ابی داؤد: حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن النضر بن أنس، عن بشير بن نهيك، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما، جاء يوم القيامة وشقه مائل»(2/ 242)۔
وفی الدرالمختار: (و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر اھ(3/ 48)۔
وفی الھندیة:(الباب الحادي عشر في القسم) ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان. اھ(1/ 340)۔