میری شادی کو آٹھ مہینے ہو گئے ہیں , تقریباً تب سے اب تک بے سکونی ہے گھر میں ، جس سے شادی ہوئی ہے وہ بد زبان ہے، گالیاں دیتی ہے ، میری والدہ پر تہمت اور گندی گالیاں دینا، یہ سب وہ کر چکی ہے گھر کی لالچ میں ،اس وجہ سے ہمارے گھر کاسکون برباد ہے، میری بیٹی جو کہ پہلی بیوی سے ہے اس پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے، مجھے اس سے طلاق لینی ہے اس کے علاوہ کوئی اورراستہ نہیں، میری رہنمائی کریں۔
سائل کے گھر کی بے سکونی اور جھگڑے کی وجہ اگر بیوی کو الگ رہائش نہ دینے پر ہو ، تو سائل کو چاہئیے کہ بیوی کو مستقل رہائش یا کم از کم اس گھر کے اندر ایک کمرہ اٹیچ باتھ روم کے ساتھ الگ کر کے دیدے جس میں بیوی اپنا سامان وغیرہ رکھ کر تالا لگا سکے , امیدہے کہ اس طرح کرنے سےمعاملات بہتر ہوں گے۔ اگر اس کے باوجود بھی وہ اپنی عادات سے باز نہ آئے اور گھربسانے کیلئے تیار نہ ہو تو سائل اسے طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد بھی کر سکتا ہے تاہم اس سلسلے میں جلد بازی سے کام لینے کے بجائے تأمل اور غور و فکر کے بعد فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
کمافی الھندیة: فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك، وإن قالت: لا أسكن مع أمتك ليس لها ذلك، وكذلك لو قالت: لا أسكن مع أم ولدك كذا في الظهيرية، وبه أفتى برهان الأئمة كذا في الوجيز للكردري.اھ(1/556)-
وفی الدرالمختار: وليس للزوج أن يسكن امرأته وأمه في بيت واحد؛ لأنه يكره أن يجامعها وفي البيت غيرهما؛ وإن أسكن الأم في بيت داره والمرأة في بيت آخر فليس لها غير ذلك.اھ(3/601)-
وفی ردالمحتار:وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحهاالخ(الی قولہ ) ن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى اھ(3/228)-
وفی العنایة: وقوله: (والإباحة لحاجة الخلاص) الضرورة التخليص عنها بتباين الأخلاق وتنافر الطباع اھ(3/467)-