میں نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ میں تمہیں دے دونگا، لیکن میں نے طلاق کے الفاظ زبان پر نہیں لائے یہ اسے ڈرانے کیلئے کہا، لیکن تین چار دنوں بعد میں نے کہا کہ" میں نے تمہیں دے دی ہے" وہ بھی میں نے اپنے دل ہی دل ، کیا طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں، میں اس بار بھی طلاق کے الفاظ زبان پر نہیں لایا؟
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق پہلے موقع پر سائل نے جو الفاظ استعمال کیے تھے، ان الفاظ سے تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اسی طرح دوسرے موقع پر بھی اگر سائل نے فقط یہ الفاظ استعمال کئے ہوں " میں نے تمہیں دیدی ہے " اس میں زبان سے طلاق کا لفظ استعمال نہ کیا ہو ،اور نہ ہی اس موقع پر سائل کی بیوی کیطرف سے سائل سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں فقط مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اسکی مکمل تفصیل بیان کرکے حکم شرعی سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی تنویرالابصارمع الدرالمختار:وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق اھ(3/ 227)۔
وفی الھندیة: (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق اھ(1 /348)۔