امامت و جماعت

اذان و اقامت کے الفاظ میں وصل کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
51070
| تاریخ :
2022-07-01
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اذان و اقامت کے الفاظ میں وصل کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک بندہ اذان اور اقامت کے کلمات کو وصل کے ساتھ ادا کرتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کو وصل کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ برائے مہربانی دلیل کے ساتھ جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ وصل سے متعلق اذان واقامت کا حکم ایک طرح کا نہیں، بلکہ اذان میں دو کلمات کے درمیان سکتہ (وقفہ) کرکے فصل کرنا، جبکہ اقامت میں وصل یعنی کلمات کو ملانا افضل ہے ، کیونکہ اذان میں ترسل ( ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) اور اقامت میں اسراع ( جلدی پڑھنا) مطلوب ہے، لہذا مذکور شخص کے لیے اقامت کے کلمات کو وصل کے ساتھ ادا کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں ، البتہ اذان کے کلمات کو ملانے کے بجائے دو کلموں کے درمیان سکتہ کرکے ادا کرنے کا اہتمام چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح مسلم (1) 286) 5 - (378) وحدثني عبيد الله بن عمر القواريري، حدثنا عبد الورث بن سعد وعبد الوھاب بن عبد المجید قالا حدثنا ایوب عن ابی قلابہ عن انس قال امر بلال ان یشفع الاذان ویوتر الاقامة۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(ومنها) أن يفصل بين كلمتي الأذان بسكتة، ولا يفصل بين كلمتي الإقامة بل يجعلها كلاما واحدا؛ لأن الإعلام المطلوب من الأول لا يحصل إلا بالفصل، والمطلوب من الإقامة يحصل بدونه (1/ 149)
وفی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 196)
يتمهل" يترسل "في الأذان" بالفصل بسكتة بين كل كلمتين "ويسرع" أي يحدر "في الإقامة" للأمر بهما في السنة۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 51070کی تصدیق کریں
0     918
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات