مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ غصے میں طلاق دیدی جائے تو طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟غصہ اس قدر کہ خود کو زخمی بھی کرے اور کنٹرول سے باہر ہونے کی وجہ سے کچھ بھی کہہ دے اور بعد میں بولی ہوئی بات بھی بھول جائے اور پھر ندامت ہو کہ کیا بول دیا۔
جی ہاں غصہ کی حالت طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے،تاہم سائل نے الفاظ طلاق اور اس کی تعداد بیان نہیں کی، کہ انہوں نے غصہ کی حالت میں کتنی مرتبہ اور کن الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہے؟ اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی حکم بیان نہیں کیاجاسکتا۔