میرے شوہر نے آج سے چھ (6) سال پہلے مجھے نام لیکر کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور تیسری دفعہ بولنے سے پہلے میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے مجھ سے رجوع کر لیا مگر تین مہینے بعد پھر یہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دروازے سے باہر چلےگئے۔ پوچھنا یہ ہیکہ آیا طلاق ہو گئی ہے یا نہیں ؟ شریعت کی رو سے مجھے فتوی دیا جائے اور یہ بات میں حلفاً کہنے کو تیار ہوں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دی ہے ، 2 بارکہنے کو وہ مان رہے ہیں، تیسری 3 بار جب کہا، اس سے وہ مکر رہے ہیں۔ جواب عنایت فرمادیا جائے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگرواقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طورپر کہ سائلہ کے شوہر نے پہلے دومرتبہ واضح الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" کے ساتھ دومرتبہ طلاق دی ہو، اور اس کے بعد دورانِ عدت رجوع کرکے ساتھ رہیں ہوں، تو اس کے بعد سائلہ کے شوہرکے پاس فقط ایک طلاق کا اختیارباقی تھا، لیکن جب انہوں وہ ایک طلاق بھی دیدی، تو اس سے سائلہ پر مجموعی طورپر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا۔اس لئے سائلہ اور اس کے شوہر پر فورا ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے۔
تاہم اگرشوہر اس طلاق سے انکار کررہاہو، تو سائلہ کو چاہئیے کہ کسی قریبی دارالافتاء سے رجوع کرکے اپنا اور شوہر کا حلفیہ بیان جمع کرانے کے بعد حکم ِشرعی معلوم کرلیں۔ تاکہ حرام زندگی سے بچاجاسکے۔
کما في سنن الدارقطني : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدَيْنِ عَلَى الْمُدَّعِي , وَالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» اھ(5/391)
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(3/277)-
وفیه ایضاً: وكذلك إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا قال يعني البديع.
والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة اھ(4/62)-