اسلام علیکم مجھے یہ پوچھنا ھے کہ کچھ مفتی کرام کہتے ہیں کہ لفظ چھوڑ دیا کنایہ ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ صریح ھے تو ایسی صورتحال میں ہمیں کس کی سننی چاہییں۔
واضح ہو کہ لفظ ”چھوڑدیا“اگر چہ پہلے عرف عام میں کثرت سے طلاق کے معنی میں مستعمل نہیں تھا، اس لیے پہلے یہ کنایہ میں شامل تھا، لیکن جب یہ لفظ کثرت سے طلاق کے معنی میں استعمال ہونے لگا تو بعد کے علمائے کرام نے اس کو صریح قرار دیا، جیسا کہ ”امداد الفتاوی“ اور ”فتاوی محمودیہ“ وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے، اس لیے اب اس لفظ سے بغیرنیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اور عام علماء کا بھی یہ فتوی ہے، اور یہ راجح ہے۔
فی الشامیۃ (3/ 299):
'' فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال: " رهاكردم " أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت''