میں نے اپنی بیوی کو9 2 جولائی کو ایک طلاق دی تھی، بولا تھا میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میری طرف سے تمہیں ایک طلاق ہو گئی ہے اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا گنجائش باقی ہے اور کس طرح سے باقی ہے اگر رجوع کرنا ہو تو اس کے لئے کیا کرنا ضروری ہوگا ؟شکریہ۔
صورت مسئولہ میں سائل کے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہنے سے اسکی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ " سائل اگر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرنا چاہے تو بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے، جبکہ عدت ختم ہونے کے بعد نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنالازم ہوگا، بہر صورت سائل کو آئیندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار ہے گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلطہ ثابت ہو جائے گی ، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
جبکہ رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی سے زبانی رجوع کرلے یا ازدواجی تعلق قائم کرلے یا شہوت سے اس کوچھولے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔
كما فى الشامية: تحت (قوله وطلقة) (إلى قوله) وحاصله أن السنة في الطلاق من وجهين: العدد والوقت فالعدد وهو أن لا يزيد على الواحدة بكلمة واحدة لا فرق فيه بين المدخولة وغيرها لكنه في المدخولة خاص بما إذا كان في طهر ولا وطء فيه ولا في حيض قبله كما مر وإلا فهو بدعي الخ - (231/3) هـ
وفي الدر المختار (هي استدامة الملك القائم) (بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة إذ لا رجعة في عدة الخلوة ابن كمال، وفي البزازية: ادعى الوطء بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه.(3/389)۔
وفی الھندیة: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.اھ (1/468)۔