اکمل نے زمین رہن رکھی ، چند سال بعد زمین واپس لینے کے لئے مجھ سے 3 لاکھ روپے ادھار مانگے اور کہا کہ زمین واپس لے کر خود کاشت کروں گا اور فصل کا تیسرا حصّہ مجھے دے گا اور اپنے حصے کی فصل بیچ کر ادھار بھی واپس کر دے گا ، کیا فصل میں سے حصہ لینا جائز ہے یا نہیں ، شکریہ
سائل کا اکمل کو رہن کے طورپر رکھی ہوئی زمین چھڑانے کے لیے تین لاکھ روپے بطور قرض دینا بلاشبہ جائز اور ایک مستحسن امر ہے، تاہم اس قرض کے بدلے اکمل کا سائل کو اسی زمین کی پیداوار میں سے ایک تہائی حصہ دینے کا معاہد ہ کرنا اور سائل کا اسے لینا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاناجائزاور حرام ہے، لہذا سائل کے لیے اس کول لینے سے احتراز لازم ہے۔
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]
ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ (بیان القرآن )