میں پچھلے کئی سال سے ایک وہم/شک میں مبتلا ہوں ، برائے مہربانی میری مشکل آسان فرمائیں، مجھے وضو کرنے کے دوران وہم ہوتا ہے، جیسے وضو قائم نہیں رہا، یعنی ہوا خارج ہوگئی ہے، دوسرا وہم یہ ہوتا ہے کہ شاید وضو کرتے وقت کوئی حصہ صحیح طرح نہیں دھلا یا تین سے کم دفعہ دھویا ہے، اس لئے میں کئی کئی بار وضو دہراتا ہوں، نماز پڑھنے کے دوران یہ شک رہتا ہے کہ شاید تلاوت صحیح طرح نہیں ہو رہی، اس لئے ایک ہی آیت کئی کئی بار دہراتا ہوں، دو رکعت نماز میں دس منٹ سے زیادہ لگ جاتے ہیں، کسی صاحب نے مشورہ دیا قسم کھا کر اپنے اس وہم کو کنٹرول کر سکتے ہو، لیکن صورتِ حال اس کے الٹ رہی ہے اور قسم کھانے کے باوجود میں اس مرض کو کنٹرول نہیں کرسکا ہوں، بے شمار دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے وضو یا نماز سے پہلے قسم کھائی کہ وہم نہیں کرونگا، لیکن میں قسم بھی قائم نہیں رکھ سکا ہوں , کتنی دفعہ قسم ٹوٹی ہے ، اس کا بھی کوئی شمار نہیں،مجھے اس آزمائش کا صحیح حل بتائیں۔
ایسی حالت میں سائل کو صبح و شام اکیس اکیس(۲۱/۲۱) مرتبہ”معوذتين“ پڑھ کر اپنے اوپر دم اور اس کے ساتھ ساتھ بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد کرنا چاہیئے ،جبکہ اس طرح کے شک کی صورت میں وہ غالب گمان پر عمل کر سکتا ہے۔
جبکہ دورانِ وضو اعضاء تین تین بار دھو لیا کرے اور جب تک آواز سننے یا بد بومحسوس ہونیکی صورت میں وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو پرواہ نہ کرے۔
کما في المشكوٰة: عن عثمان بن أبي العاص أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا رسول الله إن الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذاك شيطان يقال له خنزب فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلاثا قال ففعلت ذلك فأذهبه الله عني"۔ رواه مسلم (1/29)